مسجد قبلي
دیگر نام: Al-Aqsa Mosque
مسلمانوں کا قبلہ اوّل
بنیادی معلومات
- سنِ تعمیر
- 710
- گنجائش
- 5.000 افراد
- Vakıf/Kurum
- Abdülmelik b. Mervan, I. Velid
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟
اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔
جائزہ
یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔
یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔
المصلى القبلي هو المبنى المسقوف الرئيس في الجهة الجنوبية من المسجد الأقصى في القدس، باتجاه القبلة، ومن هذا الموضع جاءت تسميته. تعلوه قبة مكسوة بالرصاص، ويبلغ طوله نحو 80 متراً وعرضه نحو 55 متراً. يقوم بناؤه الداخلي على 53 عموداً من الرخام و49 سارية مربعة الشكل، وله 11 باباً، وتبلغ سعته نحو 5000 مصلٍّ. وهو من العمارة الإسلامية، ويقع ضمن موقع التراث العالمي في مدينة القدس القديمة. أما اسم المسجد الأقصى فيشمل المسجد كله داخل الأسوار، بساحاته وقبة الصخرة وسائر معالمه، ولا يقتصر على هذا المصلى.
تاریخ
یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔
یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔
تذكر البيانات أن المبنى يعود إلى سنة 710م، وتنسبه إلى عبد الملك بن مروان والوليد بن عبد الملك.
ویکیپیڈیا سے
مسجد اقصی کی قریبی سنہری گنبد والی عمارت کے لیے دیکھیے قبۃ الصخرۃ
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ مسجد اقصی حقیقت میں مسلمانوں کی میراث ہے جو تاریخی اور مذہبی حقائق سے ثابت ہے مگر یہ جس جگہ پر تعمیر کی گئی , یہود کے موقف کے مطابق اِس جگہ پر پہلے سُلیمانی ہیکل تھی۔ مُسلمانوں کے یروشلیم شہر پر قبضہ کرنے کے بعد یہ مسجد تعمیر کی گئی۔ حالانکہ کہ قرآن میں سفر معراج کے باب میں اس مسجد کا ذکر ہے۔ گویا یہ مسجد حضور ﷺ کے بعثت سے بھی پہلے موجود تھی۔ متعدد روایات کے مطابق خانہ کعبہ کے بعد دوسری عبادت گاہ الاقصٰی تعمیر ہوئی تھی۔ مسجد کا تعلق اللہ کی عبادت سے ہے اور ہر نبی کو عبادت کے لیے مسجد کی ضرورت تھی۔ یہاں تک درست ہے کہ موجودہ دور میں اس مسجد کی معروف نسبت حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ ہے حتیٰ کہ ایک روایت کے مطابق اس مسجد کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات سے تعمیر کرایا۔ لیکن اسے کلیتہً ہیکلِ سلیمانی قرار دینا تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ ہیکل کا لفظ رہائش گاہ، محل یا دربار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گمان غالب ہے کہ نبی اللہ سلیمان علیہ السلام نے اپنی رہائش کا حجرہ بھی مسجد میں ہی بنا رکھا ہو اور اپنے متبعین کا اجتماع بھی مسجد میں ہی کرتے ہوں اس لحاظ سے اس مسجد کو ہیکل سلیمانی یعنی سلیمان علیہ السلام کا محل یا دربار کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہو۔ حالانکہ یہ مسجد فی الواقع زمین پر دوسری تعمیر ہونے والی مسجد ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «مسجد اقصٰی»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0
حوالہ جات
Wikipedia (ar): https://ar.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D9%84%D9%89_%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A8%D9%84%D9%8A
Wikipedia (de): https://de.wikipedia.org/wiki/Al-Aqsa-Moschee
Wikipedia (en): https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Aqsa_Mosque
Wikipedia (es): https://es.wikipedia.org/wiki/Mezquita_de_Al-Aqsa
Wikipedia (fa): https://fa.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%B5%DB%8C
Wikipedia (fr): https://fr.wikipedia.org/wiki/Mosqu%C3%A9e_al-Aqsa
Wikipedia (id): https://id.wikipedia.org/wiki/Masjid_Al-Aqsa
Wikipedia (ru): https://ru.wikipedia.org/wiki/%D0%90%D0%BB%D1%8C-%D0%90%D0%BA%D1%81%D0%B0
Wikipedia (tr): https://tr.wikipedia.org/wiki/Mescid-i_Aksa_Camii
Wikipedia (ur): https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D8%A7%D9%82%D8%B5%D9%B0%DB%8C