مواد پر جائیں
مسجد اٹلس أطلس المساجد

تصویر: Gerd Eichmann · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons ↗

تاریخی

موتی مسجد (آگرہ قلعہ)

دیگر نام: Moti Masjid

مسجد بالهند، أنشأه شهاب الدين شاهجهان

راستہ
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟

اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔

نشان لگانے کے لیے سائن ان کریں

جائزہ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

المسجد اللؤلؤي (Moti Masjid) مسجد يقع داخل قلعة أغرا في ولاية أتر برديش الهندية، وهي من مواقع التراث العالمي لدى اليونسكو. بناه في القرن السابع عشر الحاكم المغولي شاهجهان. يرتبط المسجد بالرخام الأبيض الذي تذكر المصادر أنه سبب تسميته. وهو معلم ذو أهمية وطنية، وتشرف عليه هيئة المسح الأثري في الهند.

تاریخ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

بُني المسجد في القرن السابع عشر بأمر من الحاكم المغولي شاهجهان. ولا تورد المصادر المتاحة تاريخًا أدق للإنشاء ولا تفاصيل عن مراحل البناء.

ویکیپیڈیا سے

موتی مسجد آگرہ میں شاہ جہاں نے تعمیر کی تھی۔ شاہ جہاں مغل بادشاہ کے دور حکومت میں متعدد تعمیراتی عجوبہ تعمیر کیے گئے تھے ، ان میں سب سے مشہور تاج محل تھا۔ موتی مسجد موتی کی طرح چمکنے کی وجہ سے موتی مسجد کے نام سے مشہور ہوئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد شاہ جہاں نے اپنے شاہی دربار کے ارکان کے لیے بنائی تھی۔

ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «موتی مسجد (آگرہ قلعہ)»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0

حوالہ جات
آخری تازہ کاری: 26 اکتوبر 2026 40 مشاہدات

فہرست میں شامل کریں

تصاویر شامل کریں

تصاویر مدیر کی منظوری کے بعد شامل ہوں گی۔

درستی تجویز کریں

موتی مسجد (آگرہ قلعہ)