مواد پر جائیں
مسجد اٹلس أطلس المساجد

تصویر: David Stanley · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons ↗

تاریخی

جامع خطوہ امام علی

دیگر نام: Imam Ali Mosque

Az Zubayr، Basra، Iraq میں واقع مسجد

راستہ
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟

اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔

نشان لگانے کے لیے سائن ان کریں

ویکیپیڈیا سے

مسجد بصرہ قدیم یا جامع خُطوۂ امام علی ، اسلامی تاریخ کی وہ پہلی مسجد ہے جو مکہ اور مدینہ منورہ کے باہر تعمیر ہوا۔ یہ مسجد خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب کے دور میں عتبہ بن غزوان، جو اُس وقت بصرہ کے گورنر تھے، کے ہاتھوں تعمیر ہوئی۔ ابتدائی طور پر یہ مسجد کھجور کے تنوں سے بنائی گئی تھی، لیکن ایک بڑے آتش زدگی کے واقعے میں تباہ ہو گئی۔ بعد ازاں اسے کچی اینٹوں اور مٹی سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

پھر خلافتِ عمر بن عبد العزیز میں اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی، مگر عباسی دور میں ایک شدید سیلاب کے نتیجے میں دوبارہ برباد ہو گئی۔ اس کے بعد جب بصرہ کے بیشتر باشندے نئے مقام کی طرف منتقل ہو گئے تو اس مسجد کی اہمیت بھی کم ہو گئی۔

یہ مسجد اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات کی شاہد رہی ہے، جن میں علی بن ابی طالب اور عائشہ کی اس مسجد میں آمد (واقعۂ جمل کے بعد)، زیاد بن ابیہ کے مشہور "خطبۂ بتراء"، حجاج کی طرف سے کیے گئے قتل عام (جس میں بصرہ کے سینکڑوں عرب اکابرین شہید ہوئے) اور زنج کی بغاوت شامل ہیں۔

یہ مسجد اسلامی علوم، فقہ، حدیث، اصول اور فلسفہ کی پہلی درسگاہ بھی شمار ہوتی ہے۔ یہاں عبد اللہ بن عباس (جو "حَبرُ الأمّة" یعنی امت کے عالم کہلاتے ہیں)، زاہد حسن بصری اور واصل بن عطاء جیسے اکابر علما نے تعلیم دی۔ اسی مسجد میں پہلی بار عقل کو احکامِ شرعیہ کے استخراج (استنباط) کا ذریعہ بنانے کی دعوت دی گئی۔

ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «جامع خطوہ امام علی»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0

حوالہ جات
آخری تازہ کاری: 27 اکتوبر 2026 5 مشاہدات

فہرست میں شامل کریں

تصاویر شامل کریں

تصاویر مدیر کی منظوری کے بعد شامل ہوں گی۔

درستی تجویز کریں

جامع خطوہ امام علی